محبتِ مصطفی ﷺ

محبت ایک نہایت ہی عظیم جذبے کا نام ہے اور محبت مصطفٰی ﷺ کا تو مقام ہی جدا ہے ۔محبتِ مصطفیٰ ﷺ کو بیان کرنا مجھ جیسے ادنیٰ انسان کے لیے نہایت ہی مشکل امر ہے ۔ اﷲ نے نبی پاک ﷺ کو اپنا محبوب قرار دیا ۔کسی کو بھی مسلمان ہونے کے لیے اﷲپر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ نبی پاک ﷺ پر ایمان لانا لازمی ہے ۔ یہ محبت ہی ہے کہ اﷲنے اپنے نام کے ساتھ اپنے محبوب کا نام کلمہ میں جوڑ کر اس بات کو رہتی دنیا تک امر کر دیا ہے کہ اﷲ کے بعد اگر کوئی ہستی اس دنیا میں محترم اور قابل محبت نبی پاک ﷺ کی ذات ہے ۔دین میں داخل ہونے کے لیے اﷲ کے بعد نبی پاک ﷺ کو ماننا لازم ہے ۔ نبی پاک ﷺ کی ذات ، حدیث سے انکار انسان کو دین سے خارج کر دیتا ہے ۔ کوئی بھی اس وقت تک مسلمان کہلانے کے لائق نہیں جب تک کہ و ہ نبی پاک ﷺ کی محبت اور پیروی کو اپنے دین کا حصہ نہ سمجھے ۔
محبت کا عالم ہے کہ اﷲنے اہنے محبوب ﷺ کے لیے تمام عالم بنایا ، اس زمین کو پھولوں اوررنگوں سے سجایا ۔پھر نبی پاک ﷺ کی ذاتِ اقدس کو تخلیق فرما کر آپ ﷺ کو تمام عالم کے لیے رحمت بنایا اور آپ ﷺکو رحمت العالمین کا خطاب عطاء فرمایا ۔
محبت مصطفیٰ ﷺ کا بیان اﷲ قرآن میں کچھ یوں فرماتا ہے
اے ایمان والو !اﷲ اور اس کے فرشتے آپ ﷺ پر درود و سلام بھیجتے ہیں اس لیے تم بھی ان پر درود بھیجو
اس ہستی کے مقام کو کوئی کیسے پہچان سکتا ہے جس ہستی سے خود خدائے ازو جل نے محبت کی اور اس ہستی سے محبت کوئی آسان امر نہیں ہے ۔محبتِ مصطفی ﷺ کا بیان کرنا اس قدر نازک معاملہ ہے کہ اگر اس محبت میں انسان ایک حد سے آگے بڑھ جائے تو شرک اور اگر آپ ﷺ کی ذاتِ بابرکات کی شان میں تھوڑی سی بھی کمی بیشی کر دے تو بے ادبی ۔
ایک شاعرنے کیا خوب کہا ہے
دیوانہ ء مصطفی ﷺہشیار باش
یعنی جو بھی نبی پاک ﷺ سے محبت کا دعوی ٰ کرتے ہوں انھیں احتیاط سے کام لینا چاہیے کہ یہ دعویٰ ایک نہایت ہی نازک اور اہم معاملہ ہے ۔کیونکہ نبی پاک ﷺ کی محبت کا دعویٰ از خود ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے ۔ خو د کو دیوانہ مصطفی ٰﷺ کہنے والوں کو اپنے اعمال و افعال پر تنقیدی نگاہ ڈالنا چاہیے۔اپنے افعال اور اعمال کو سنت کے مطابق کرنے کی کوشش کرے ۔محبت کا تقاضا یہ ہے کہ بنی پاک ﷺ کی ہر حدیث کو فرض سمجھ کر اس پر عمل کیا جائے۔ ہم میں سے ہر ایک کا اٹھنا بیٹھنا ، حلیہ سب سنتِ نبوی ﷺ کے تابع ہونا چاہیے ۔کسیہاں لفظ محبت کا بیان لازم ہے۔محبت کو اگر صرف ایک مرد اور عورت کی محبت تک بھی محدود رکھا جائے تو محبت کرنے والا اپنے محبوب کی ہر ایک ادا پر اپنی جان قربان کرنے کو تیار ہو جاتا ہے ۔ جب انسان کو کسی سے محبت ہوتی ہے تو اسے اس کی ہر ادا پر پیار آتا ہے اس کی ہر عادت بہت پسند کرتا ہے اس کی پیروی کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ محبت جس سے کی جاتی ہے بنا اسے حیل و حجت اس کی خوشی کو اپنی خوشی یا خواہش سے مقدم رکھا جاتا ہے ۔ اس کی ہر بات کو حکمِ لازم سمجھ کر مانا جاتا ہے ۔ محبوب کے وصل کے لیے ہر وقت دعا کی جاتی ہے اور محبوب کے لیے کوئی کام کرنے سے دریغ نہیں کیا جاتا ۔ یہ تو ہے ایک عام انسان کی محبت جس کی خاطر انسان جان دینے کے لیے تیار ہو جاتا ہے ۔ جبکہ محبتِ مصطفی ٰ ﷺ اس سے کہیں بلند جذبہ ہے ۔ زبان سے کہنا کہ ہمیں نبی پاک ﷺ سے محبت ہے یہ ایک آسان سی بات لگتی ہے لیکن درحقیقت نبی پاک ﷺ سے محبت زبان سے کہہ دینا ہی کافی نہیں بلکہ محبت کو ثابت کرنے کے لیے ان کے ہر حکم کو بنا کسی چوں چراں کے ماننا ضروری ہے ۔
محبت کا ادنیٰ تقاضا ہے کہ ان کے اعمال کو حرفِ آخر سمجھا جائے ان اعمال کی پیروی کی جائے ۔آج مسلمانو ں کا یہ عالم ہے کہ ہر سنت کو سنت کہہ کر نہیں مانتے ۔
سنن ابنِ ماجہ میں حدیثِ نبویﷺہے کہ نبی پاکﷺ نے فرمایا تم چھوڑدو مجھ سے وہ چیز جس کا بیان میں نے تم سے نہیں کیاکیونکہ تم سے پہلے لوگ ہلاک ہوئے ہیں اپنے نبیوں پر سوالات اور اختلافات کی کثرت کے سبب اور جب میں تمھیں کسی چیز کا حکم دوں تو اس کو بجا لاؤجتنی تم طاقت رکھتے ہو اور جب کسی چیز سے روکوں تو رک جاؤ۔
نبی پاکﷺ کے اعمال اور حدیث کی پیروی ، فرمانبرداری درحقیقت اﷲ کی فرمانبرداری ہے جبکہ نبی پاک ﷺ کی ذات سے دوری یا فرمانبرداری میں کمی درحقیقت اﷲکی نافرمانی ۔ کیونکہ اﷲنے نمازاور دیگر احکام کا حکمفرمایا لیکن طریقہ نبی پاک ﷺ نے سکھایا۔ نبی پاک ﷺ کی پیروی ہی درحقیقت شریعت اور طریقت ہے
مسلمان گھرانے میں پیدا ہونا ازخود اﷲرب العزت کی جانب سے بہت بڑینعمت ہے ۔ ہم اس امت سے ہیں جن کے لیے نبی پاک ﷺ چودہ سو سال پہلے بخشش کی دعا فر مائی، جو اپنی امت سے محبت فرماتے ہیں اور قرآن پاک میں اﷲپاک نے سورت توبہ میں کچھ یوں گواہی فرمائی ۔
بے شک تمھارے پاس تم میں سے ایک باعظمت رسول ﷺ تشریف لائے ہیں ۔ تمھارا تکلیف ، مشقت میں پڑھنا ان پر سخت گراں گزرتا ہے ۔ اے لوگو!وہ تمھارے لیے ( بھلائی اور ہدایت ) کے بڑے آرزو مندہیں اور مومنوں کے لیے نہایت ہی مشفق اور رحم فرمانے والے ہیں ۔
کیا عظیم خوش قسمتی ہے کہ ان کے امتی ہوجاناجو رحمت ہی رحمت ہوں ۔ جن کی محبت کا یہ عالم ہو کہ اس محبت کی گواہی رہتی دنیا تک قرآن پاک دیتا رہے ۔جو اپنی محبت کی بنا پر اپنی امت کی بخشش کے لیے چودہ سو سال پہلے سجدہ میں روتے رہے ۔
یہ نبی پاک ﷺکی ذات اقدس ست محبت ہی ہے جو کہ تمام عالم اسلام کو آپس میں جوڑے ہوئے ہے۔مسلمانوں اور غیر مسلموں میں اگر کوئی فرق ہے تو وہ صرف اور صرف نبی پاک ﷺ کی ذات بابرکات ہے تمام مسلمان نبی پاک ﷺکے نام پر اپنی جان قر بان کرنے کے لیے ہر لحظہ تیار رہتے ہیں لیکن یہ کافی نہیں ہے ۔ محبت کے تقاضے اس سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ نبی پاکﷺ سے محبت کو قائم رکھتے ہوئے ہمیں فرقہ پرستی اور طریقت کے اختلافات کو بھول کر ایک فورم پر جمع ہوجانا چاہیے تاکہ کوئی مسلمانوں کے درمیان پھوٹ نہ ڈال سکے۔



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest