( لمحہ لمحہ مرتے لوگو )

نظم

پتھر شہر کے پتھر لوگو
چلتے پھرتے جلتے لوگو
لمحہ لمحہ مرتے لوگو
پھر بھی جیتے جاگتے لوگو
زیست سے بیزار اے لوگو
موت سے ڈرتے مرتے لوگو
جاگو اب محوِ خواب اے لوگو
پیار جہاں کو بانٹو لوگو
بنو سفیر محبت کے
نفرت نہ پھیلاؤ لوگو
دلوں کو نہ دکھاؤ لوگو
کسی کو نہ رلاؤ لوگو
یہاں جینا ہے چند روز
آخرت نہ گنواؤ لوگو

میمونہ صدف




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest