بے حسی کی چادر

بارش کے موسم میں
جب سب دھل سا جاتا ہے
تلخیؤں کے رنگ اور بھی
گہرے ہونے لگتے ہیں
ہوائیں ٹھرانے لگتی ہیں
فضائیں سنسنانے لگتی ہیں
یہ موسم عجب اداس سا لگتا ہے
فضا میں بے حسی کا راج ہے شاید
وہ دیکھو کہیں دور کوئی ننھا
قہوہ بیچتا پھرتا ہے
کہیں سڑک پر کوئی ٹھٹھرتا بچہ
پھٹے ہاتھوں دستانے بیچتا ہے
سنو اس سرد موسم میں
بے حسی کی چادر اوڑھنا نہیں
سنو ہر سو پھیلی اس دھند میں
ان کو کھونے مت دینا
جو اپنے پیٹ کی خاطر
سرد موسم میں , سڑکوں پر بے بس سے

گھومتے پھرتے ہیں
سنو اس سرد موسم میں
بےحسی کی چادر اوڑھنا نہیں

میمونہ صدف



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest