وجودِ زن سے ہے کائنات میں رنگ 

میرا یہ کالم خصوصا ان تمام خواتین کے نام ہے جنھوں نے اپنی زندگیاں اپنے خاندان ،اپنے اہل وایال کے لیے وقف کر دیں ہیں ۔ ان تمام عورتوں کے نام جنھوں نے اپنی محنت سے خود کو عالمی سطح پر منوایا ہے ۔ ان تمام ماؤں کے نام جنھوں نے اپنی جوانیاں اپنی اولاد کے نام کر دیں۔ جو ہر ظلم اپنی ذات پر سہتی ہیں لیکن اپنے بچوں پر آنچ نہیں آنے دیتی ۔ان کے بچے ان کے ساتھ چاہے جیسا مرضی سلوک کریں وہ جب ماں کو پکارتے ہیں تو ماں انھیں معاف کر دیتی ہے ۔ جو اپنے بچوں کو خوشیاں دینے کی خاطر بڑے سے بڑے طوفانوں سے ٹکرا جاتی ہیں ۔ ان تمام بیٹیوں کے نام جو اپنے باپ ، بھائیوں کی عزت پر قربان ہو جاتی ہیں اور اپنے باپ اور بھائیوں کی خدمت میں دن رات جتی رہتی ہیں ۔ ان تمام بہنوں کے نام جو اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہو کر ترقی کی دوڑ میں ان کا ساتھ دیتی ہیں یہاں تک کہ بعض بہنیں اپنی وراثت میں ملنے والے ترکے تک کواپنے بھائیوں کے نام کر دیتی ہیں ۔ ان تمام بیویوں کے نام جو اپنے شوہروں اور سسرال والوں کا ہر اچھا ، برا رویہ برداشت کرتی ہیں لیکن اس کی مونس و غم خوار رہتی ہیں ۔ اس کے گھر کی حفاظت اور اس کی نسل کی تربیت کرتی ہیں ۔الغرض عورت اپنے ہر روپ میں محبت اور ، قربانی کا دوسرا نام ہے۔ اور اس قربانی اور محبت کے صلے میں وہ عزت اور محبت چاہتی ہے ۔
عورت معاشرے کا وہ 52% حصہ ہے جس کی وجہ سے 48% مکمل ہے اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔ عورت کے بغیر معاشر کی بقا ء ، نسل انسانی کی بقاء ناممکن ہے ۔ یہ عورت ہی ہے جو کسی بھی معاشرے کی اگلی نسل کی امین ہوتی ہے ۔نیپولین نے کیا خوب کہا تھا
تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دو میں تمھیں بہترین قوم دوں گا ۔
اگر غور کیا جائے تو درحقیقت عورت ہی نسلوں کو بگاڑنے یا سنوارنے کی ذمہ دار ہے ۔ اگر عورت اپنی ذمہ داری سے آگاہ ہے اور اپنی ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھانے کی صلاحیت رکھتی ہے تو وہ نسلوں کو سنوارنے کا موجب بن سکتی ہے کہا جاتا ہے ۔ اور اگر عورت اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ نہیں ہے یا اچھے طریقے سے نبھا نہیں پا رہی تو اگلی نسل کو دین سے بے بہرہ رکھے گی ۔عورت جس حد تک دین دار ہو گی اسی حد تک وہ دین کو ، ادب و احترام کو اگلی نسل میں منتقل کرے گی ۔کسی بھی شخص ، ملک ، معاشرہ کی ترقی ، مذہب سے قربت ، دوری ، اقدار کی منتقلی کا دارومدار عورت پر ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کسی داناء نے کہا خوب کہا جس نے ایک مرد کو تعلیم دی اس نے ایک فرد کو تعلیم دی اور جس نے ایک عورت کو تعلیم دی اس نے ایک نسل کو تعلیم دی ۔عورت دنیامیں تخلیق انسانی کی ذمہ دار


ہے ۔
قرآن میں ارشاد ہوتا ہے “ڈرو اس اﷲسے جس کے واسطے سے سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور قرابتوں میں تقویٰ اختیار کرؤ ۔(سورت نساء ۔ آیت ۱)
حدیث بنوی ﷺ میں ارشاد ہوتا ہے ۔ اے لوگو ! عورت کے معاملے میں اﷲسے ڈرو اور ان کے ساتھ بھلائی کا سلوک کرؤ ( مشکات شریف)
عورت کے مقام کا انداز ہ یہاں سے لگا لیجئیے کہ عورت کو نبی نہیں بنایا گیا لیکن نبیوں کی ماں کی حیثیت کے طور پر


جنت ان کے قدموں تلے رکھ دی گئی ۔
حدیث پاک ﷺمیں ارشاد ہوتا ہے کہ جنت ،ماؤں کے قدموں تلے ہے ۔
اسلام میں عورت کا مقام یہ ہے کہ عورت کے حقوق کی خاطر رب تعالیٰ ایک پوری سورت ( سورت نساء ، پارہ ۵) اتار دیتا ہے ۔عورت کا یہ مقام ہے کہ رحمت العالمین ﷺ ، رحمت دوجہاں ﷺ جب اپنی والدہ ماجدہ کی قبر مبارک پر جاتے ہیں تو آپ ﷺ کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر جاتی ہیں ۔ اور آپﷺرونے لگتے ہیں ۔ جب حضرت خدیجہؓ کی بہن ( حضرت ہالہؓ ) نبی پاک ﷺ کے گھر تشریف لاتی ہیں تو آپ ﷺ ان کے احترام میں کھڑے ہو جاتے ہیں ، آپ ﷺ اپنی ازواج کو اونٹ پر سوار کراونے کیلیے اپنے گٹنے کو سہارا بنا تے ہیں اور زوجہ وجہ وجودِ کائنات ﷺ کے گٹنا ء مبارک پر اپنا پاؤں رکھ کر اونٹ پر سوار ہوتی ہیں ۔ اپنی بیٹی حضرت فاطمہ ازہراؓ کی خاطر اپنی چادر بچھا دیتے ہیں ۔ حضرت خدیجہؓ کی وفات کے بعد ان کے اہل وایال اور ان کی سہیلیوں کی خبر گیری کرتے ہیں اور انھیں قربانی اور صدقہ میں سے حصہ عنایت کرتے ہیں ۔
عورت کے حقوق پر بنی ہوئی تنظیموں اور عورت کے حقوق پر بات کرنے والوں کو چاہیے کہ عورت کے حقوق کا اسلام کی رو سے مطالعہ کریں ۔ اگر وہ حقوق جو اسلام نے عورت کو دیے وہ آج کی عورت کو دیے جائیں تو دنیا جنت کا نمونہ پیش کرے اور کسی تنظیم ، کسی بل ، کسی قراداد کی ضرورت نہ رہے ۔ مسائل وہاں پیدا ہوتے ہیں جہاں عورت کو ا سکے جائز حقوق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے ۔ اس پر بے جا بوجھ تو ڈال دیا جاتا ہے لیکن اس کو سپورٹ نہیں کیا جاتا ۔ اور اس رویہ صرف مردوں کا نہیں بلکہ خود عورتوں کا بھی ہے ۔ عورت کو اسلام وہ مقام دیتا ہے جو کوئی اور مذہب نہیں دیتا اور جس کی وہ حق دار ہے۔ اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے وراثت میں عورت کا حصہ مقرر کیا اور عورت کی وراثت کے بارے میں قوانین واضع کیے ۔اسلام کے علاوہ کسی مذہب میں عورت کی وارثت کے بارے میں کوئی حقوق واضع نہیں کیے گئے ۔ اسلام عورت کو ماں ، بہن ، بیٹی اور بیوی کی حیثیت سے عزت واحترام اوربلند مقام دیتا ہے ۔ اسلام عورت کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے ۔
نبی پاک ﷺ نے خاص طور حکم فرمایا کہ جن سواریوں پر عورتیں سوار ہوں ان کو آہستہ آہستہ دوڑاؤ کہ یہ کانچ کی صراحیاں ہیں۔انھیں ٹھیس نہ لگ جائے
گویا عورت سے نرم رویہ ، محبت اور احترام کے ساتھ پیش آیا جائے ۔اسلام عورت کو کسی کام کرنے سے نہیں رکنے دیتا بلکہ ہر چیز کی ایک حد مقرر کرتا ہے ۔قرونِ اولیٰ میں عورتیں تجارت میں باقاعدہ حصہ لیتی رہی ، اسلام کے ابتدائی دور کے غزوات میں عورتیں عملا شامل رہیں ۔ اور اس کی شمولیت کے احکامات بھی واضع کیے گئے ۔ اسلام عورت کوپابندِ سلاسل نہیں کرتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ عورت اپنی ذمہ داریوں (اولاد کی تعلیم و تربیت، گھر کی ذمہ داری ، ) کو پہچانے اور اس کو پورا کرنے کی کوشش اس کی اولین ترجیح ہونا چاہیے ۔
8 مارچ پوری دنیا میں خواتین کے حقوق کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ لیکن صرف ایک دن کے طور پر منا لینا کافی نہیں ہے ۔ معاشرے کو مثلِ جنت بنانے کی خواہش رکھنے والے 48% کو اپنے ساتھ چلنے والے 52% حصہ کو سپورٹ کرنا ہو گا ۔ کیونکہ مرد اور عورت دونوں ہی ایک گاڑی کے دو پہیے ہیں اگر ایک پہہ دکھ یا ظلم کا شکار ہوگا تو دوسرا پہہ کبھی بھی اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھانے کے قابل نہیں رہے ۔ ایک بہترین معاشرے کی تعمیر کے


لیے عورت اور مرد دونوں کا ایک دوسرے کا ساتھ دینا ازحد ضروری ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest