جمہوریت کی اعلی ٰ ترین مثال : ترکی کے زندہ دل عوام 

ترکی کی جمہوری حکومت کو الٹنے کے لیے کی گئی فوجی سازش کو عوام نے ناکام بنا دیا ۔ عوام نے دارالحکومت کی جانب بڑھتے ہوئے ٹینکوں کے نیچے لیٹ کر اپنی جان پر کھیل کر حکومت کو بچایا۔ یہ دنیا میں جمہوریت کی حفاظت کی اعلیٰ ترین مثال ہے ۔ جن ممالک سے جمہوریت کا آغاز ہوا ان ممالک میں بھی ایسی مثال نہیں ملتی ۔ ترکی میں ہونے والی یہ سازش چند فوجی افسران کی سوچ کا شاخسانہ تھا اس سازش کے خلاف عوام کا یہ ردِ عمل ترک حکومت نہیں ، جمہوریت برائے سیاست بلکہ درحقیقت یہ یکجہتی اور عوام کی طاقت ، صدر رجب طیب اردگان کی قیادت کو بچانے کے لیے تھی ۔اس شورش اور سازش پر کئی کالم لکھے جا چکے ہیں ، بہت سے مباحثے ہو چکے ہیں ۔ کچھ لوگوں کا کہنا یہاں تک ہے کہ یہ تمام سازش ، تما شورش ، دراصل صدر طیب کا ایک تیار کردہ ڈرامہ تھا جس کا مقصد دنیا کو ، اسلامی ممالک خصوصا شام ، عراق اورکرد باغیوں کے سامنے صدر طیب کی طاقت کا اظہار تھا ۔ جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ترکی کی ترقی اور صدر طیب کی طاقت سے خائف مغربی ممالک اور ملک دشمن عناصر اس سازش کو کامیاب بنانے کی کوشش میں سرگرداں رہے اور درحقیقت یہ سازش ترکی میں جمہوریت کا تختہ الٹنے کے لیے تھی الغرض ہر کوئی اپنے اپنے خیال پیش کرتا رہا ہے اصل حقائق کیا ہیں یہ تو تحقیقات کے بعد دنیا کے سامنے آئیں گے لیکن اس سازش سے کچھ ٹھوس ادارے دنیا کے سامنے آئے ۔ یہ سازش تھی یا نہیں ، صدر طیب کا تیار کردہ ڈرامہ تھا یا نہیں ، اس بات سے قطع نظر ، صدر طیب کی جرات سے کون واقف نہیں ۔ اس وقت وہ اقوامِ عالم میں ایک جرات مند مسلمان حکمران کی حیثیت سے جانے اور مانے جاتے ہیں ۔ ترک عوام نے ثابت کیا کہ تمام عالم اسلام کے دلوں پر راج کرنے والے صدر طیب کے خلاف اگرکوئی سازش ہو گی تو وہ اپنی جان دے کر بھی اسے بچائیں گے ۔
صدر رجب پوری امت مسلمہ میں وہ واحد حکمران ہیں جو کہ جرات ، بہادری اور عالمی سطح پر مسلمانوں کے حق میں تعرہ ء حق بلند کرتے ہیں ۔ اپنی عوام کے لیے ہمدرد ، اور ترکی کی ترقی کے لیے ہمہ تن گوش رہنے والے راہنما ہیں ۔ عالم اسلام کا کوئی بھی مسئلہ ہو صدر طیب جرات سے اقوامِ عالم میں اپنا موقف پیش کرتے نظر آتے ہیں ۔اگر بنگلہ دیش میں مطعی الرحمٰن نظامی کی پھانسی کا معاملہ ہو جب تمام عالم اسلام کے حکمران خاموش ہوتے ہیں اس وقت ترک صدر بنگہ دیش سے سفارتی تعلقات کو ختم کر کے اپنے سفیروں کو ملک میں واپس بلاتے ہیں ، شام کے مہاجرین کی امداد کا مسلۂ درپیش ہو ، تمام عالمِ اسلام کے راہنما خامو ش ہوتے ہیں اس وقت صدر طیب اپنے ملک سے امداد ان مہاجرین کو


بھیجتے ہیں ۔ مہاجرین کا مسئلہ ہو یا کوئی اور عالمی مسئلہ صدر طیب مسلمانوں کی ایک مضبو ط آواز بن کر سامنے آئے ۔صدر طیب کے دور حکومت میں ترکی اقوامِ عالم کی صف میں ایک طاقت بن کر سامنے آچکا ہے ۔ ترکی کی خارجہ پالیسی میں وضع کردہ تبدیلی نے ترکی کو اقوامِ عالم میں کامیابی سے ہمکنار کیااور ملک کی اندرونی حالت میں خاطر خواہ بہتری آئی ۔ ملک میں جرائم کی سطح میں کمی ہوئی اور اندرونی شورشوں کا خاتمہ ہو ا جس کی وجہ سے ملکی معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہوئی اور ترکی یورپی یونین کا ایک اہم ملک بن گیا ۔
حالیہ سازش صدر طیب اردگان کی حکومت کو ختم کر کے مارشل لا ء لگانے کی ایک کوشش تھی جس کو عوام نے ناکام بنا دیا ۔ اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے دو سو افراد نے اپنی جان قربان کی اور ۱۴۴۰ افراد زخمی ہوئے ۔ مسلمان ممالک نے بھی ترکی کا ساتھ دیا جس کو صدر طیب نے اپنے خطاب میں سراہا اور اپنی عوام کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے حکومت کی حفاظت کی ۔
اب آئیے صدر طیب کے سیاسی کئیریر کا جائزہ لیں ۔ صدر طیب ترکی کو ترکی کی حکومت سنبھالے ہوئے قریبا دو سال ہو چکے ہیں ۔ انھوں نے اپنے سیاسی کئیریر کا آغاز Justice and development party کے قیام سے کیا ، طیب اس سیاسی جماعت کے بانیوں میں سے ایک تھے ۔اس پارٹی کا منشور عوام کو انصاف کی فراہمی اور ملک میں ترقی ہے ۔ اس پارٹی کا قیام ۲۰۰۱ء میں عمل میں آیا جس نے بالترتیب تین الیکشن سن ۲۰۰۲ء ، ۲۰۰۷ء اور سن ۲۰۱۲ ء میں واضع برتری حاصل کی ۔ یہ ہارٹی اسلامی سیاسی ماضی کی حامل ہے اور خود کوکنزویٹو ڈیموکریٹک Conservative Democrate کہلاتے ہیں ۔ صدر طیب نے اس پارٹی کے قیام کے بعد ترکی میں واضع شہرت حاصل کی ۔اپنے سیاسی کیئریر کے آغاز میں پہلی برتری طیب کو تب حاصل ہوئی جب وہ سن ۱۹۹۴ء استنبول کے میئر کے طور پر منتخب ہوئے اور چار سال تک اس عہدے پر برقرار رہے ۔ اپنی سیاسی جماعت کے قیام کے بعد صدر طیب نے الیکشن میں کامیابی حاصل کی اور سن ۲۰۰۳ء میں پہلی بار ترکی کے وزیر اعظیم کی حیثیت پر منتخب ہوئے ۔ اس عہدے پر ایک سال کا م کرنے کے بعد سن ۲۰۱۴ء میں ہونے والے ترکی کے صدر منتخب ہوئے ۔۱۶ہ۲ء میں صدر طیب پر وزیر اعظم احمد کو زبردستی مستعفی ہونے پر مجبور کرنے اور ترکی میں صدارتی نظام لاگو کرنے کا الزام بھی آیا ۔ا ن پر یہ الزام بھی تھا کہ انھوں نے بنالی یلدیرم جو ان کے ساتھی تھے کو وزیر اعظم منتخب کیا۔اس دوران وزیر اعظم یلدیرم پر کرپشن کے الزامات لگائے گئے جس میں سب سے بڑا الزام محل(اے کے سرائے ) کی تعمیر ہے جس کے بعد انھیں معطل کر دیا گیا۔
صدرطیب کے کارناموں میں سب سے بڑا کارنامہ کرد باغیوں سے کامیاب مذاکرات اور ترکی کی یورپین یونین میں شمولیت ہیں ۔ترکی ایک طویل عرصے سے خانہ جنگی کا شکار تھا ۔ سن ۹۱۷۸ء سے کرد باغیوں اور ترک فوج کے درمیان جنگ جاری تھی جسے صدر طیب نے حکومت میں آکر مذاکرات کے ذریعے ختم کیا اور ترک باغیوں کی جانب سے فوج پر حملوں کو ختم کروایا ۔صدر طیب نے کامیاب خارجہ پالیسی واضع کروائی جس کی وجہ سے ترکی کو یورپی یونین میں ایک اہم مقام حاصل ہو ا۔ اس کے علاوہ ملکی ترقی میں ان کا بہت بڑا ہاتھ ہے انھوں نے ملک میں ہوائی اڈے ، سٹرکیں بنوائی ، ملک میں ذرائع آمدو رقت کو بے انتہا ترقی دی ۔اس کے ساتھ ساتھ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بھی خاطر خواہ کا م کیا ۔



واضع رہے ، جمہوریت اپنی قیادت کی بہادری ، حب الوطنی کی وجہ سے عوام کے دلوں پر راج کرتی ہے ۔ جب راہنما ملک کے اندر کی شورشوں اور بیرونی سازشوں سے ملک کو بچانے کے لیے کمر بستہ ہو جائیں تو عوام اپنے حکمران کی طاقت بن جاتے ہیں لیکن اگر ارضِ وطن کی طرح حکمرانوں کا یہ حال ہو کہ انھیں مرتے ہوئے عوام ، سسکتی ہوئی انسانیت کی خبر نہ ہو اس وقت عوام اپنے راہنماؤں کے لیے دعا تک نہیں کرتے ۔ ترکی کے عوام نے عوام کی قوت کو ثابت کیا ۔ انھوں نے دنیا کو یہ دکھا دیا کہ اگر عوام چاہیں تو وہ کسی بھی شورش کا خاتمہ کر سکتے ہیں اور کوئی بھی حکمران اپنے عوام کی وجہ سے طاقت ور ہوتا ہے ۔ ترک عوام نے اپنے صدر ، جمہوریت کی حفاظت کی ایک اعلی ٰ مثال پیش کی ہے ۔ ایسا نہیں کہ کو ئی انھیں روکنے والا نہیں تھا یا ان کے لیے یہ آسان تھا لیکن وہ جانتے تھے کہ ان کا حکمران مسلمانوں کی ایک مضبوط آواز بن کر دنیا کے سامنے آیا ہے ، اسی حکمران نے ان کے ملک کو اندرونی خانہ جنگی سے نکا ل کر ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے اور اگر ترک حکومت کا تخت الٹ دیا جاتا تو ملک میں جاری ترقی کا تسلسل پھر سے رک جاتا ۔عالمی سطح پر ملک کا امیج خراب ہوتا ۔ انھی باتوں کے پیشِ نظر عوام سڑکوں پر نکلے اور حکومت کی حفاظت کے لیے ساری رات سٹرکوں پر بسر کی ۔ ترک عوام نے دنیا کی افواج کو بھی یہ پیغام دیا ہے کہ افواج کا کام ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے نا کہ ملک پر حکومت اور اگر چند جنرل اکٹھے ہو کر ملکی مفاد کے خلاف فیصلہ کریں گے تو عوام ان کا ساتھ نہیں دیں گے ۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest