مقامِ حسینؓ : اشعارِاقبال کی روشنی میں 

حضرت امام حسینؓ ایک ایسی ہستی ہیں جن کا مقام بیان کرنا کسی کے بس کی بات نہیں ۔ قلموں کی روشنائی ، لکھنے والوں کے الفاظ اس ہستی محترم کی ہمہ پہلو شخصیت کی تعریف سے یکسر قاصر ہیں ۔ان کے درست مقام کا اندازہ کوئی کر ہی نہیں سکتا ۔ ذرا اندازہ کیجئیے ! ان کا مقام کیا ہو گا جنؓ کی نسبت ان سے ہے جو وجہ وجودِ کائنات ہیں ۔ امام حسینؓ وہ عظیم ہستی ہیں جن کے نانا رحمت العالمین حضرت محمد مصطفی ٰ ﷺ ، جن کی والدہ وہ نبی پاک ﷺ کی لاڈلی بیٹی جنت کی خواتین کی سردار ، جن کے والد وہ کہ جب قلعہ خیبر فتح نہیں ہو پاتا تو نبی پاک ﷺ ان سے مدد لیتے ہیں ، جنھیں نبی پاک ﷺ اپنے صحابہ میں ایک اعلیٰ مرتبہ عطا فرماتے ہیں ۔ امام حسینؓ کی ہستی اس حد تک محترم ہے کہ ان کی مدح سرائی کے لیے الفاظ ایجاد ہی نہیں ہو پائے ۔ جن کی سواری نبی آخر الزماںﷺ ہوں جن کے لیے رحمت العالمین خطبہچھوڑ کر منبر سے اتر آئیں ،جنھیں اپنے کندھوں پر اٹھائیں ان کے مقام کا اندازہ کرنا ممکن ہی نہیں ہے ۔۔ جن کے بارے میں نبی پاک ﷺ فرماتے ہیں
حسین منی و انا من الحسین
ترجمہ : حسینؓ مجھ سے ہے اور میں حسینؓ سے ہوں ۔
یہی امام حسینؓ جب جوانی کی عمر کو پہنچتے ہیں تو لوگ ان کے پاس اپنے مسائل کے حل کے لیے آتے ہیں ۔ مدینہ منورہ میں دینِ اسلا م کے یہ سپوت حکمرانی کی خواہش سے بے بہرہ اپنے ایال کے ساتھ زندگی بسر کر رہے تھے جب کوفہ کے رہنے والوں نے پے در پے خطوط لکھ کر حضرت امام حسینؓ کو کوفہ آنے کی نہ صرف دعوت دی بلکہ مدد کی یقین دہانی بھی کروائی ۔ جب امام عالی مقام کربلا کے مقام پر پہنچے تو اﷲکے نام لیوا آپؓ کے مدِ مقابل آن کھڑے ہوئے ۔ایک اﷲ کے ماننے والوں نے اسی اﷲ کے محبوب ﷺ کے خاندان سے جنگ کی ۔ صد لعنت ہو ان بدبختوں پر جنھوں نے دنیا وی جاہ وجلال کے لیے یہ نہیں جانا کہ جس نبی ﷺ کے نام کے بنا ان کا کلمہ تک مکمل نہیں وہ انہی کے نواسۂ جن کے پاس جنگی ساز وسامان بھی موجود نہیں ان کے خلاف نہ صرف جنگ کی بلکہ انھیں شہید کیا ۔ ان پاک دامن اور پردہ دار بیبیوں جن کے دامن پر فرشتے نماز پڑھتے ہوں ۔ جن کی عزت و حرمت سارے عالم پر واجب ہو انھیں بے پردہ کیا گیا ۔ طاقت کے نشے میں جھومنے والے یہ بھول گئے کہ وہ دنیا کے عظیم ترین لوگوں کو جن کے پاؤں کی دھول اس قابل ہے کہ مسلمان اس کا سرمہ بنائیں ان کے ساتھ اس حد تک ظالمانہ سلوک کیا۔جنھوں نے ان پیاس سے نڈھال بچوں کو شہید کیا ۔اس ظلم سے وہ جو نامِ حسینؓ کو مٹانے کے در پے تھے ان کو اﷲنے بدترین شکست دی اور امام عالی مقامؓ کا نام ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔علامہ اقبال نے اپنے متعدد اشعار میں امام عالی مقام کی مدح سرائی کی ہے اور مقام حسینؓ کو بیان کیاہے ۔ علامہ اقبال نے اسی دکھ کو اپنے شعر میں کچھ یو ں بیان کیا ہے
عجیب مذاق ہے اسلام کی تقدیر کے ساتھ
کاٹا حسینؓ کا سر نعرہ ء تکبیر کے ساتھ
یہ اسلام کی تقدیر کے ساتھ مذاق ہی تھا کہ اسلام کا منبع خود کو مسلمان کہلانے والوں کے ہاتھوں شہید ہو جائے ۔ ایک حدیث میں کچھ یوں ارشاد ہوتا ہے جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ جس نے حسنینؓ سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا ۔ تو جس نے حضرت امام حسینؓ سے جنگ کی اس نے حضرت محمد مصطفی ﷺ سے جنگ کی اور قیامت تک ملعون کہلائے گا ۔
نہایت اس کی حسینؓ ابتدا ء ہے اسماعیل ؑ
مذہب اسلام کا آغاز قربانی سے شروع ہوتا ہے اس کی بقاء اور انتہا قربانی پر مبنی ہے ۔ اسلام کے فرزند کبھی اس قربانی سے دریغ نہیں کرتے چاہے وہ حضرت اسماعیل ؑ ہو ں یا حضرت امام حسینؓ قربانی کا حق ادا کرنے سے کبھی گریز نہیں کرتے ۔ جرات مندی کی ایسی مثال دنیاکے کسی مذہب میں نہیں ملتی
تا قیامت قطع استبداد کرد
موجِ خون ادچمن ایجاد کرد
امام حسینؓ اور یارانِ حسینؓ نے ایسی مثال قائم کی کہ جان نثار کر دو مگر ظالم ، جابر اور لاد ین حکمرانوں کی غلامی قبول نہ کرؤ ۔ جو تمھیں دین سے غداری کی جانب راغب کریں ۔ آپؓ کے پاکیزہ اور مقدس خون نے امت محمدی ﷺ کے باغ سے گندگی کو زائل کر کے ایمان کی چمک سے سرفراز کیا ۔ جرات کی وہ داستان رقم کی جس کی مثال نہیں مل سکتی ۔
نقش لا اﷲہر صحرا نوشت
سطرِ عنوان نجات مانوشت
امام کے کربلا کی مٹی کو اپنے خون سے اﷲ کے دین کا کلمہ سربلند کیا اسلام کو حیاتِ نو سے روشناس کرایا اور ابد تک اسلام کی روح کو زندہ وجاوید کر گئے ۔امام عالی مقامؓ کا کوفہ کی جانب سفر کسی دنیاوی غرض سے متعلق نہیں تھا بلکہ دین کی بقاء کی خاطر تھا ۔ کوفہ میں مسلمان تو موجود تھے لیکن اسلام کا وجود خطرے میں آن پڑا تھا ۔ انھیں ہر صورت اپنے نانا کے دین کو بچانا تھا اور یہ فرض انھوں نے بڑی تندہی سے انجام دیا ۔
سرِ حق در خال و خون غلطیدہ است
پس بنائے لا الہ گرویدہ است
امام حق کے لیے شہید ہوئے کلمہ توحید کی روشن بنیاد ثابت ہوئے ۔ ظلم کا کافرانہ حکم ماننے سے انکار کیا اور مسلمانوں کے لیے ابدی مثال قائم کی ۔امام عالی مقامؓ کی شہادت نے قیامت تک ہر مظوم کو معتبر ، ہر نہتے جان نثار کو کامیاب ، ہر بے کس و بے سہارا کو باعزت بنا دیاْ زمانے میں ظالم ہمیشہ کے لیے بے توقیر ہوئے ۔ظالم اپنے ظلم کے ساتھ اگر زندہ بھی رہے تو درحقیقت یہ ابد تک ناکام رہے گا۔ امام عالی مقامؓ کا امت مسلمہ پر یہ احسان ہے کہ آج ہمارا دین سلامت ہے ۔یہ آپ کا ہی امتیاز ہے کہ اب ہر وہ شخص جو حق کی سربلندی کے لیے لڑے گا اس کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے ۔
حق حق ہے اورکسی کی شہادت سے حق نہیں مٹتا بلکہ اس کو جلا ملا کرتی ہے ۔



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest