ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی 

حضرت داتا گنج بخش کا فرمان ہے ۔
سارے ملک کا بگاڑ تین گرہوں کے بگڑنے پر ہے ۔ حکمران جب بے عمل ہوں، علماء جب بے عمل ہوں اور فقیر بے توکل ہوں ۔
تمام امت مسئلمہ خصوصااگر اپنی ارضِ وطن پر نظر ڈالیں تو ہمارا معاشرہ بھی بگاڑ کی جانب مسلسل مائل ہے ۔جس کی بنیادی وجہ حکمرانوں کا بے عمل ہونا ،علماء کا بے عمل ہو نا قابلِ ذکر ہے ۔ یہاں ہر ایک گفتار کا غازی تو ہے لیکن عمل سے بے بہرہ ۔ ہر گزرتا دن ہمارے معاشرے کو پہلے سے زیادہ ابتری کی طرف لے کر جا رہا ہے ۔ اگر حضرت داتا گنج بخش کے فرمان کو مدِنظر رکھا جائے تو ہمارے معاشرے کے تینوں گروہ ہی اپنی اپنی جگہ بگڑتے چلے جا رہے ہیں اور ان کے سدھرنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ۔ارضِ وطن میں بدعنوانی اور کرپشن اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ تقریبا تمام ادارے اس دلدل کی نذر ہوتے جا رہے ہیں ۔ اس بدعنوانی اور کرپشن کو ختم کرنے کے لیے کوئی طبقہ کارفرماء نہیں ہے ۔ جمہوریت کے نام پرجاگیردارانہ نظام آج بھی رائج ہے ۔ملک میں نسل در نسل چلتی ہوئی سیاست اور حکمرانی نے ملکی ترقی کو ایک مخصوص پیمانے سے آگے نہیں بڑھنیدیا ۔ لینڈ مافیا اوربڑھتی ہوئی غنڈا گردی نے ملک میں خوف وہراس کی فضاء کو پروان چڑھایا ہے ۔جس کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاری میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے ۔ ایک طرف تو دہشت گردی کے خلاف جنگ اور خودکش بم دھماکوں میں ان گنت جانیں بھینٹ چڑ چکی ہیں تو دوسری طرف تھر میں موت کے مہیب سایے جھٹنے کا نام نہیں لے رہے ۔ان گنت اموات نے ملک میں ایک سوگ کی سی فضاء برپا کر دی ہے ۔تعلیم ہے تو وہ ایک مخصوص طبقہ سے منسوب ہو چکی ہے ۔ جبکہ بہت سے علاقوں میں پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں ہے ۔ اگر حالات کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہ تمام کے تمام مسائل خالصتا انتظامی مسائل ہیں اور ناقص انتظامی حکمتِ عملی کی وجہ سے ابھی تک حل نہیں ہو پائے ۔اگر انتظامی کارکردگی بہتر ہو جائے تو یہ مسائل مہینوں میں نہیں بلکہ دنوں میں حل ہو جائیں ۔ان انتظای مسائل کو حل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اقتدار کو نچلی سطح پر منتقل کیا جائے ۔ضلع اور تحصیل کی سطح پر مسائل حل کیے جائیں ۔


اگر اس سرزمین سے وابسطہ لوگوں کی ذہانت اور اس سرزمین میں موجود وسائل پر نظر دوڑائیں تویہ بات حیران کن ہے کہ تحقیق سے ثابت ہوا کہ یہاں ہر نئے پیدا ہونے والے بچے کی ذہانت کا معیار پچھلی نسل سے 50% بلند ہے ۔یہاں کے لوگوں کی ذہانت دنیا کے کسی بھی اور خطے کی نسبت کہیں زیادہ ہے ۔پاکستانی دنیا کے ہر بڑے ادارے کے اعلی ٰ ترین عہدوں پر فائز ہیں ۔ جس کی سب سے بڑی مثال دنیا کی سب سے بڑی خلائی تحقیقاتی کمپینی ں ناساء کے اعلیٰ ترین عہدے پر پاکستانی نژاد سائنس دان کا فائز ہونا بھی ہے ۔ افواجِ پاکستان نہ صرف دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک ہیں بلکہ اسلامی ممالک کی افواج میں سب سے مضبوط اور سب سی بڑی فوجی قوت ہیں ۔صرف افواج ہی نہیں ،پاکستان ارفع کریم اور علی معین نوازش جیسے بچوں کی سرزمین ہے جنھوں نے انتہائی کمی عمری میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں عالمی سطح پر اپنی ذہانت کا لوہا منوایا ۔یہ نائلہ عالم اور یاسمین درانی جیسے لوگوں کی سرزمین ہے جنھوں نے انسانیت کے لیے کام کرکے وائٹ ہاؤس سے ایوارڈ حاصل کیا ۔ نثار برنی اور عبدالستار ایدھیی جیسے لوگ بھی اسی ملک کا حصہ ہیں ۔جو انسانیت اور خدا ترسی کا ایک روشن مینار ہیں ۔صرف یہی نہیں اس سرزمین کے ہنر مند پوری دنیامیں اپنے ہنر کے لیے ایک مخصوص پہچان رکھتے ہیں۔
صرف انسانی وسائل ہی نہیں یہ زمین قدرتی وسائل سے بھی مالا مال ہے ۔یہاں ان قدرتی وسائل کی بہتات ہے جو کہ قرب و جوار کے ممالک کو نصیب نہیں ۔اس سرزمین کے پھل ( آم ، مالٹا ، خشک میو ہ جات ) اور چاول پوری دنیا میں اپنی مثال نہیں رکھتے ۔اس وطن کے پاس تمام کے تمام موسم ، پہاڑ ، دریا ، صحرا ، ریگستان ، بندرگاہیں ، نیم آباد ، گنجان آباد ہر طرح کی زمین موجود ہے ۔دنیا کے سب سے طویل اور سب سے بلند ترین پہاڑی سلسلے ہوں ، سرد ترین علاقہ ہو یا گرم ترین ،بہترین سیر گاہیں ہوں یا قدیم ترین تہذیب کی باقیات سبھی کا تعلقزمین کے اسی ٹکڑے سے ہے ۔ضرورت ہے تو صرف اتنی کہ ان سیر گاہوں کو عالمی سطح پر روشناس کروایا جائے ۔ ملک میں امن وا مان کی صورتحال بہتر بنائی جائے تاکہ دوسرے ممالک کے سیاح یہاں آسانی سے آ سکیں ۔ سیاحت سے ملک کو کثیر زرِ مبادلہ حاصل ہو سکتا ہے ۔ کیونکہ پاکستان کے بہت سے ایسے علاقے ہیں جو سیاحتی اعتبار سے نہایت اہم ہیں لیکن عالمی سطح پر ان مقامات کے بارے میںآگاہی سرے سے موجود نہیں ہے ۔


ان سیاحتی مقامات کے ساتھ ساتھ یہ سرزمین جغرافیائی اعتبار سے ایک اہم حیثیت رکھتی ہے ۔ یہ زمین مشرقِ وسطی ٰ اور دیگر ممالک کے درمیان ایک مرکز کی ما نند ہے ۔کیونکہ ہمارے ملک کے ایک جانب اسلامی ممالک کی پٹی ہے تو دوسری جانب غیر اسلامی ممالک ہیں ۔ گویاپاکستان مشرقِ وسطیٰ اور مغربی ممالک کے درمیان ایک گیٹ وے کا کام کر سکتا ہے ۔ خطے میں گرم پانی کی بندرگاہیں صرف وطنِ عزیز کے پاس ہیں ۔ اگر صرف گوادر کی بندگاہ کو ہی چالو کر دیا جائے تو GDP میں قریبا 5% تک اضافہ ممکن ہے ۔پاکستان پہلی سلامی ایٹمی قوت ہونے کی بدولت خطے میں خاص اہمیت رکھتا ہے ۔صرف یہی نہیں اس سرزمین میں ریکوڈک ، چنیوٹ کے مقام پر سونے اور تانبے کے وسیع تر ذخائر اور نمک کیسب سے بڑی کان کھیوڑہ کے مقام پر موجود ہیں ۔جن کی مالیت250 ارب ڈالر سے زیادہ ہے جبکہ تھر کے مقام پر ( دنیا کے تیسرے بڑے ذخائر ) اور سندھ ہی کے علاقے جھارو میں تیز چلنے والی ہوائیں توانائی کے متبادل ذرائع کی صورت موجود ہے ۔ اگر ان ذرائع کو احسن طریقے سے استعمال میں لایا جائے تو نہ صرف بجلی کا بحران از خود ختم ہو جائے بلکہ پاکستان بجلی درآمد کرنے کے قابل بھی ہو جائے ۔ پوری دنیا میں برآمد کیے جانے والے قیمتی پتھر شمالی علاقہ جات سے حاصل کیے جاتے ہیں ۔جو کوالٹی کے اعتبار سے ساری دنیا میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ۔ بلوچستان کی زمین معدنیات ، قدرتی گیس اور خام تیل کے وسیع ذخائر سے لبریز ہے۔ جن کو ابھی تک دریافت نہیں کیا جاسکا ۔ اگر ان وسائل کا 10%حصہ بھی کام میں لایا جائے تو اس ملک کی مالی حالت دنیاکے کسی بھی ترقی یافتہ ملک سے کہیں بہتر ہو سکتی ہے ۔
الغرض یہ سرزمین چاہے انسانی وسائل ہوں یا قدرتی وسائل ، ہر طرح کے وسائل سے مالا مال ہے ۔یہ تمام وسائل ایسے ہیں جنھیں اگر مناسب طریقے سے استعمال میں لایا جائے تو نہ صرف پاکستان اپنے ہر قرضے سے نجات پا سکتا ہے بلکہ دوسرے ممالک کی مالی امداد بھی کر سکتا ہے ۔انہی وسائل کو بروکار لا کر حالیہ بحرانوں سے ابدی نجات حاصل کی جا سکتی ہے اور یہاں کے بسنے والوں کو بہتر معیارِزندگی دیا جاسکتا ہے ۔ ہمارے ملک کے پاس کمی ہے تو ایک ایسے لیڈر کی جس میں قائدانہ صلاحیتیوں کے ساتھ ساتھ بصار ت اس حد تک موجود ہو کہ وہ حالات کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے ملک کے لیے بہترین فیصلے کر سکے ۔ ایک ایسا لیڈر جس کے لیے اپنے ذاتی مفاادات کی نسبت ملکی مفادات اہم ہوں ۔



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest