عورت ہر روپ محبت :ماں  

میرا یہ کالم ان تمام ماؤں جنھوں نے اپنی زندگی کے شب و روز آگ کے بھرے انگاروں پر چلتے ہوئے گزاردیتی ہیں ۔ان تمام ماوؤں کے نام جنھوں نے اپنی جوانی اپنی اولاد کے نام کیں اور جب ا ان کی اولاد جوان ہوئی تو انھی کو بارخیال کرنے لگتی ہے ۔ ن تمام ماؤوں کے نامجن کی کوکھ سے جنم دینے والے بیٹے بڑھاپے میں انھیں بھول جاتے ہیں ۔جن کے احسانات تو اس حد تک زیادہ ہیں کہ ان کا شمار کرنا ہی ممکن نہیں ۔ کیونکہ ماں ہی وہ ہستی ہے جو اﷲکے بعد اولاد کی تخلیق اور اس دنیا میں لانے کا سبب بنتی ہے،جو اپنا سب کچھ اولاد کے لیے قربان کر دیتی ہے اس کی تربیت ، تعلیم ، کھانا پینا ، پہننا اوڑھنا سبھی کی ذمہ داریاں اٹھاتی ہے ۔ اس کے باوجود اگران کی اولاد ان سے اچھا سلوک نہ کرے تو اسے بددعا نہیں دیتی اس کے ہاتھ اگر اٹھتے ہیں تو صرف اور صرف دعا کے لیے ۔ ماں ہی وہ واحد ہستی ہے جو اولاد کی بدتمیزی کے جواب میں بھی انھیں پیار اور محبت سے نوازتی ہے ۔بوڑھے ماں باپ بالخصوص ماں کی دعائیں کسی کی بھی دنیا و آخرت سنوار سکتی ہیں ۔
ماں کی دعا کی قبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت موسی ٰ کلیم اﷲؑ کی والدہ ماجدہ جب انتقال فرما گئی اور وہ کوہ طور سے والپس آرہے تھے تو ندا آئی ۔
اے موسیٰ ؑ ! آہستہ چل اب تیرے پیچھے دعا کے لیے اٹھنے والے ہاتھ نہیں ہیں
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارا معاشرہ جہاں بہت سی برائیوں کا شکار ہو رہا ہے ۔ وہاں والدین کی عزت و احترام میں بھی خاطر خواہ کمی ہوئی ۔ابھی حال ہی میں میری نظر سے ایک نہایت ہی افسوس ناک واقعہ گزرا ۔لڑائی جھگڑے تو ایک طرف ایک بیٹے نے اپنی بوڑھی ماں کو گھر سے باہر نکال کرگلی میں گالیاں دیں اور مارا پیٹا ۔ وہ ماں اس قدر بوڑھی ہو چکی ہے کہ اس کی بینائی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔اس آخری عمرمیں وہ کا م کاج کرنے کے قابل بھی نہیں رہی ۔ اس کا قصور یہ ہے کہ وہ اپنی بہو پر تنقید کرتی رہتی ہے ۔ جس طرح ہر بوڑھے شخص کا المیہ یہ ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ اس کو سنا جائے اور اس کی ہر بات مانی جائے ۔ اسی طرح اس عورت کا بھی یہی المیہ ہے کہ اس کی اولاد اسے وقت دے ، ان کی ہر بات کو مانے ۔ بوڑھے لوگ عموما جوانوں پر تنقید بھی زیادہ کرتے ہیں کیونکہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ جو کچھ انھوں نے دیکھا یا جو انھوں نے تجربے کے بل پر سیکھا وہ نئی نسل میں منتقلکر دیا جائے اور انھیں ان غلطیوں سے بچایا جائے جو بے خبری میں ان سے سرزد ہوئی ۔ اسی طرح وہ بھی اپنی بہو پر تنقید کرتی اور شاید اسے گالیاں بھی دیتی ہوں گی ۔ اس تنقید کا نقصان انھیں یہ ہوا کہ انھی کے اپنے بیٹے نے انھیں گھر سے باہر نکال کر محلے میں مارا پیٹا او ر، ان سے بد تمیزی کی اور سرعام گالیاں دی ۔ یہ وہ عورت ہے جس نے اپنی جوانی میں بچوں کو پالنے کے لیے بہت محنت کی اور اپنی پوری جوانی حسرتوں کے نام کرتے ہوئے اولاد کو پروان چڑھایااور جب وہ کڑیل جوان ہوگئے تو انھوں نے اسی ماں سے اپنی حسرتوں کا حساب مانگنا شروع کر دیا ۔انھوں نے یہ نہیں سوچا کہ اس عورت نے انھیں پالنے پوسنے کے لیے نہ جانے کون کون سی مشکلات کا سامنا کیا ہوگا ۔ اور جس حد تک ممکن ہوگا اس نے زمانے کے سرد و گرم سے بچانے کی کوشش کی ہو گی ۔
راولپنڈی کے اس مکین کی اپنی ماں سے حد درجہ بدتمیزی ہمارے معاشرے میں مذہب سے دوری ، احکامات الہیہ سے بے خبری اور والدین سے بدتمیزی کی صورت میں عذاب سے لاعلمی کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے ۔ایک اسلامی معاشرے میں بسنے والے مسلمان بیٹے کے لیے اس طرح کی حرکت نہایت ہی شرم ناک اور افسوس ناک عمل ہے ۔ اس شرمناک عمل کا نہ تو کوئی معاشرہ اجازت دیتا ہے اور نہ ہی کوئی مذہب مبادا کہ مذہب اسلام جو تمام مذاہب میں حقوق العباد کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ اسلام میں تو ماں کا یہ مقام ہے کہ جنت ماں کے قدموں تلے رکھ دی گئی ہے ۔
قرآن پاک میں ارشاد باری تعالی ٰ ہے ہم نے آدمی کو اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید فرمائی ہے ، اس کی ماں نے اسے پیٹ میں رکھا ،کمزوری پر کمزوری جھیلتی ہوئی اور اس کا دودھ چھوٹنا دو برس میں ہے کہ یہ حق مانے میرا اور اپنے ماں باپ کا ۔(سورت لقمان : آیت۱۴)



حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول ﷺ کو یہ کہتے سنا ۔ وہ شخص غرق ہوا ۔ پوچھا گیا کون؟ رسول ﷺ نے فرمایا جس نے اپنے ماں باپ کو بڑھاپے میں پایا اور ان کی خدمت کرکے جنت حاصل نہ کر سکا ۔( صحیح مسلم 6189)
صحیح بخاری میں ارشادِ نبوی ﷺ ہیکہ عورت پر اس کے شوہر کا حق سب سے زیادہ ہے جبکہ مرد پر اس کی ماں کا
الغرض اسلام میں والدین کے ساتھ بدسلوکی یاجس طرح اس بیٹے نے اپنی ماں کو مارا پیٹا اس طرح کے کسی عمل کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ مذہب کے ساتھ اخلاقیات کی رو سے بھی یہ عمل نہایت افسوس ناک ہے کیونکہ ادب کا تقاضا ہے کہ جس عورت نے اچھی یا بری جیسی بھی آپ کی تربیت کی اپنی جوانی آپ کے لیے وقف کر دی ہے جب بوڑھی ہو جائے ، آپ اس کا خیال نہیں بھی ر کھ سکتے تو اس کو یوں سرعام مارنا پیٹنا ، یا گالیاں دینا کسی غیرت مند شخص کا شیوہ نہیں اور خاص الخاص اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ والدین کو بوڑھا ہونے پر مارا پیٹا جائے بلکہ اسلام کو یہاں تک کہتا ہے کہ والدین کے بڑھاپے میں ان کے آگے اف تک نہ کی جائے ۔بوڑھے ماں باپ کا خیال رکھنا ایک معاشرتی اور مذہبی ذمہ داری ہے ۔ ماں باپ خصوصا ماں کے خلاف ایسا رویہ اختیار کرنا جو بد تمیزی اور بداخلاقی کا مظہر ہو ں وہ میری نظر میں کسی گناہ کبیرہ سے کم نہیں ۔ اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بیٹے اپنی شادیوں کے بعد اگر ماں اور بیوی کے درمیان اختلافات ہونے لگیں تو وہ ان کے بیچ انصاف کرنے کی بجائے کسی ایک کے ساتھ بے انصافی کر جاتے ہیں ۔اس کے علاوہخوش اخلاقی، تمیز داری ، اور تہذیب کے دائرے میں رہنا ایک ایسا قرض ہے جو آپ خود پرچڑھاتے ہیں ۔ اگر آج آپ اپنے والدین سے بہترین سلوک کریں گے تو کل کو آپ کے بچے آپ کے ساتھ یہی سلوک کریں گے ۔کیونکہ بچے آپ سے اگرخوش اخلاقی اور تمیز داری یا بدتمیزی اور بدتہذیبی سیکھتے ہیں تو کل کو وہ عملا یہ


بدتمیزی آپ کے ساتھ کر یں گے
مرد پر اﷲ نے ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد کی ہے کیونکہ اسے ماں اور بیوی دونوں ہی کے ساتھ اچھا برتاؤ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور بہترین مرد وہ ہے جو نہ صرف اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے بلکہ ان کو احسن طریقے سے سر انجام دینے کی کوشش بھی کرے ۔بہووں کو بھی اپنی ساس کو اپنی ماں کا درجہ دینا چاہیے تاکہ گھروں میں سکون رہے۔
بوڑھے والدین درحقیقت ایک ذمہ داری اور ذمہ داری کے ساتھ ساتھ اﷲ کی بہت بڑی رحمت بھی ہیں ۔ ذمہ داری اس طرح کہ آپ کو ان کی تنقید ان کا غصہ برداشت کر کے ان کی کفالت کرنا ہوتی ہے، ان کا نان نفقہ پورا کرنا ہوتا ہے ، بیماری کی صورت میں ان کی ادویات کا خرچا اٹھانا ہوتا ہے جیسے انھوں نے بچپن میں آپ کی کفالت کی اور رحمت اس طرح کہ اﷲتعالی ٰ ہر اس شخص کو جس کے والدین بوڑھے ہوں انھیں ایک موقع دیتا ہے کہ وہ اپنی دنیا ، ( ماں باپ کی دعاؤں سے ) اور اپنی آخرت اﷲ کے حکم کی بجاآوری سے سوار سکتے ہیں ۔ گویا جنت کمانے کے لئے والدین کی خدمت کو اپنا شعار بنایا جائے تو آخرت کے ساتھ ساتھ دنیا بھی سنواری جا سکتی ہے ۔الغرض ہر ایک کو اپنی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اپنے اعمال کو بہتر سے بہترین بنانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔توجہ طلب امر یہ ہے کہ والدین کو ذمہ داری نہیں بلکہ اﷲ کی رحمت سمجھتے ہوئے ان کی خدمت اور تابعداری کی جائے



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest