تبصرہ :کمرہ نمبر ۱۰۹

از طرف :میمونہ صدف

کمرہ نمبر ۱۰۹ شہزاد حسین بھٹی صاحب کی پہلی کتا ب ہے ۔ شہزاد صاحب کو میں ان کے لفظوں سے جانتی ہوں میرا ان سے رابطہ ایک کالم کار کی حیثیت سے رہتا ہے۔ ان کی کتاب ان کے مختلف ادوار میں لکھے گئے مضامین پر مشتمل ہے ۔

   کتا ب مصنف کی حب الوطنی کی غمازہے  

مصنف نے اس معاشرے کے مختلف پہلوں کو اجاگر  ۔کرنے کی کوشش

            کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے علم کو معاشرے میں بیداری کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں ۔

اپنے کالم ٹیپوسلطان کی انگوٹھی میں شہزاد حسین لکھتے ہیں ــ ہمارے ہاں تعلیم پرتو بہت زور دیاجاتاہے کہ بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی جائے مگر کیا ہم نے تربیت پر بھی زور دیا ہے کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی ہونی چاہیے ۔ ہماری نوجوان نسل جیز تو پہن رہی ہے مگر گھر میں کوئی مہمان آجائے تو اسے سلام کرنا نہیں سیکھایا گیا ۔ تربیت کے فقدان کی وجہ سے ہی آج چھوٹے بڑے کا لحاظ ختم ہو گیا ہے۔ 

آزاد ملک کے آزاد شہری میں وہ کچھ یون رقم کرتے ہیں

قانون صرف کتابوں میں ہوتا ہے عملاََ کچھ نہیں ہوتا ۔ 

گویا مصنف معاشرے میں موجود ہر اس برائی پر نظر رکھے ہوئے ہیں جو معاشرے میں بگاڑ کی بنیادی وجہ ہے اور لوگوں میں اس کا شعور بھی اجاگر کرنا چاہتے ہیں ۔ معاشرے میں پنپتی لا قانونیت کے خلاف قلم کی کمان اور الفاظ کے تیروں کا استعمال کرتے ہوئے شہزاد حسین بھٹی عوام و خواص کی نظر اس جانب مبذول کروانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

ضلع اٹک کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات پر زور دیتے ہوئے دکھاوا نہیں عملی اقدام میں کہاوت کا سہارا لے کر اپنے مضمون کو پڑھنے والوں کے لیے دلچسپ بناتے ہیں ۔ 

وہ کہتے ہیں

 بڑے لوگ اپنے کارناموں کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں جبکہ کتبے قبروں پر ہی اچھے لگتے ہیں ۔  اٹک کو کتبوں کی نہیں بلکہ عمل کی ضرورت ہے ۔

الغرض چاہے حکومت ہو یا اپوزیشن ، سیاست ہو یا معاشرت ، ہر پہلو پر نظر 

.رکھے شہزاد حیسن بھٹی کی کتاب قارئین کے لیے ایک تحفہ سے کم نہیں

اس کتاب کا ایک ایک صفحہ ، سروروق سے لے کر آخری حرف تک اپنے اندر

ایک خوبصورتی سموئے ہوئے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest